7 مئی 2013 - 19:30
صہیونیوں نے عرب حکمرانوں کے ساتھ ہمآہنگ ہوکر شام پر حملہ کیا

شام پر صہیونیوں کے حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں کہ اکثر عرب حکمران اس غاصب ریاست کے سے ہمآہنگ ہیں اور صہیونی ریاست کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے فلسطین کے حوالے سے اپنے تزویری موقف سے منحرف ہوچکے ہیں / وہابی دہشت گردوں کی اسرائیل کو مبارکباد اور دہشت گردوں کے سرغنوں کی سابق صہیونی وزیر خارجہ سے ملاقات۔

اہل البیت (ع) خبر ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عبدالباری عطوان نے القدس العربی میں اپنے ایک مضمون میں لکھا: اگر شام پر اسرائیل کے میزائل حملے اور بمباری ایک بھونڈا اور موقع پرستانہ اقدام اور اعلان جنگ اور اس ملک کی سالمیت پر حملہ نہیں تو پھر کیا ہے؟ صہیونی حملوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بےشک شام فوجی حملوں کا نشانہ بنا ہوا ہے کیونکہ اسرائیل کی غاصب صہیونی ریاست کو شام سے خطرہ لاحق ہے؛ شام پر صہیونیوں کے پےدرپے حملے ایسے حالات میں ہورہے ہیں کہ بیشتر عرب ممالک اس ریاست کی آغوش میں پناہ لئے ہوئے ہیں اور اس کے ساتھ ہمآہنگ ہیں اور صہیونی ریاست کی خوشنودی کی غرض سے فلسطین کی اصولی پالیسی سے منحرف ہورہے ہیں۔القدس العربی کے چیف ایڈیٹر نے لکھا: ہم ایک تباہ کن علاقائی جنگ کے بالکل قریب ہیں اور اگر جنگ ہوئی تو اسرائیل اور اس کے عرب حامی اس جنگ کے پوری طرح ذمہ دار ہونگے کیونکہ اس جنگ کا آغاز صہیونی ریاست نے کیا ہے۔عطوان نے سوال اٹھایا ہے: شام حزب اللہ کے لئے میزائل کیوں نہ بھجوائے جبکہ صہیونی ریاست امریکہ سے ہر قسم کے ہتھیار وصول کررہی ہے؟ اور شام کے پاس میزائلوں کا ذخیرہ کیوں نہیں ہونا چاہئے جبکہ اسرائیل نے شام کے ایک حصے پر قبضہ کیا ہوا ہے اور اس کے کے پاس لاکھوں میزائل ہیں؟دریں اثناء حکومت شام نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنے میزائلوں کا رخ ممکنہ کاروائی کی غرض سے مقبوضہ فلسطین میں صہیونی ٹھکانوں کی طرف کرلیا ہے اور یہ کہ وہ لبنان میں اسلامی مزاحمت کے لئے ایسے میزائل فراہم کرنے کے لئے تیار ہے جو اپنی مثال آپ ہیں۔ عبدالباری نے مزید لکھا ہے: ہمیں ہرگز تعجب نہ ہوگا اور بعید از قیاس نہيں ہے کہ شام صہیونی حملوں کا بھرپور جواب دے اور شام کے جواب کے حتمی ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اگر وہ جواب نہ دے تو اسرائیل اپنے حملے جاری رکھے گا جو میزائل داغنے اور فضائی بمباری کی صورت میں ہوسکتے ہیں۔انھوں نےلکھا ہے: شام کے وزیر خارجہ عمران الزعبی نے کابینہ کے ہنگامی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے جس فیصلہ کن انداز سے شام کا موقف بیان کیا اس کی مثال ماضی ميں کم ہی ملتی ہے۔ ادھر  اسرائیل نواز وہابی دہشت گردوں کے ترجمان نے حمص کے ایک خفیہ ٹھکانے سے اسرائیل کے چینل 2 کو انٹرویو دیتے ہوئے شام پر اسرائیلی حملوں کا خیرمقدم کرتے ہوئے صہیونی ریاست کو ان حملوں کی مناسبت سے ہدیہ تبریک پیش کیا ہے اور کہا ہے کہ اس طرح مسلسل پیشقدمی کرتی ہوئی شامی افواج کے حوصلے کمزور ہونگے اور ناامید وہابیوں کو حوصلہ ملے گا۔ ادھر نام نہاد فری سیرین آرمی کے دہشت گرد سرغنے کل جمعرات کو واشنگٹن میں شام کے مستقبل کے بارے بحث و تمحیص کی غرض سے بدنام زمانہ سابق صہیونی وزیر خارجہ زیپی لیونی سے ملاقات اور بات چیت کررہے ہیں۔ العالم کے مطابق یہ اجلاس واشنگٹن کے مطالعات مرکز کی دعوت پر منعقد ہورہا ہے اور اس اجلاس میں شام میں لڑنے والے دہشت گردوں کے کئی سرغنے شرکت کررہے ہیں جبکہ امریکی حکام بھی شرکت کررہے ہیں۔ اس نشست میں شام، فلسطین اور مصر کے مسائل پر بات چیت ہوگی۔فری سیرین آرمی نامی دہشت گرد تنظیم کا عبدالحمید زکریا اور حلب میں عسکری شوری کا سربراہ عبدالجبار العکیدی بھی اس نشست میں شرکت کے لئے مدعو کئے گئے ہیں۔پروگرام کے مطابق امریکی وزیر دفاع چاک ہیگل اس اجلاس سے خطاب کرے گا۔ ...../*